چاروں الہامی کتابیں ایک خدا نے نازل کیں تو ان میں اتنا فرق کیوں ہے؟ تحریر محمد امین اکبر

درج بالا عنوان مبشر زیدی صاحب کی ایک تحریر کا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”تورات، زبور، اناجیل اور قرآن زبان، صنف، اسلوب، تنظیم، ڈکشن، متکلم، مخاطب اور ابلاغ کی سمت تک میں ایک دوسرے سے بے حد مختلف ہیں۔“

مبشر صاحب بہت اچھی تحقیق کرتے ہیں اور ان کے مذہبیات کے مضامین کم از کم میرے جیسے تحقیق کرنے والے کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں لیکن یہ مضمون پڑھ کر لگا کہ اس میں کافی کمی رہ گئی ہے۔ یہ موضوع تو ایسا ہے جس پر مغربی مفکرین نے کافی تحقیق کر کے کتابیں لکھی ہیں، جس کا حوالہ بھی انہوں نے دیا ہے۔ شاید مغربی تحقیق سامنے لانے کے لیے ہی انہوں نے یہ مضمون لکھا ہو، ورنہ ان تمام چیزوں کے پیچھے جو وجوہات ہیں وہ بہت سے مسلمانوں کو اور مبشر صاحب کو بھی بخوبی معلوم ہیں۔ یہ تحریر ان کے مضمون کا باقاعدہ رد نہیں ہے، بلکہ اس میں موجود کمی کو پورا کرنے اور ساتھ میں مختصراً اپنا موقف بتانے کی ایک کوشش ہے۔

زبان کے حوالے سے دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی پیغام کسی قوم کو دیا، انہی کی زبان میں دیا تاکہ جنہیں پیغام دیا جا رہا ہے، وہ اس کو بخوبی سمجھ سکیں۔ قرآن عربی میں کیوں ہے، اس کے متعلق قرآن خود کہتا ہے:

"بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی نازل فرمایا تاکہ تم سمجھو۔” (سورہ یوسف، آیت 2)
"ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔” (سورہ الزخرف، آیت 3)

اب ظاہر ہے کہ تورات، زبور اور انجیل کی زبان وہی ہونی تھی جو اس وقت بنی اسرائیل بولتے تھے۔ برصغیر میں بھی اگر کوئی نبی آیا ہوگا تو اس نے بھی وحی کا پیغام مقامی زبان میں ہی دیا ہوگا تاکہ لوگ سمجھیں۔ اس لیے محض زبان کے فرق کی وجہ سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کتابوں کا ماخذ ایک نہیں یا ان میں الہامی تعلیمات نہیں۔

صنف، اسلوب اور ڈکشن کے مختلف ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کتابوں کی تدوین کا تاریخی پس منظر ہے۔ تورات کو نزول کے بہت بعد لکھا گیا۔ نزول کے وقت تو بس دس احکامات کے تختی پر لکھے ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ بعد میں لکھے جانے کی وجہ سے اس میں وحی کے ساتھ ساتھ تاریخی حالات، تشریحات اور دیگر واقعات بھی لکھنے والوں کے اپنے الفاظ میں شامل ہو گئے۔

زبور حمدیہ شاعری پر مشتمل ہے۔ اس دور میں بنی اسرائیل کی سلطنت مضبوط ہو چکی تھی اور قوانین میں تبدیلی کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔ میرے خیال میں حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بے حد پسند تھی، یہی وجہ ہے کہ زبور کا اسلوب حمدیہ اور روحانی مناجات کا ہے۔

انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کو جمع کیا گیا ہے، جس میں ان کی تعلیمات بھی شامل ہیں۔ میرے مطابق تو اصل انجیل کی تعلیمات اِنہی موجودہ اناجیل میں موجود ہیں، جو بنیادی طور پر حواریوں کی لکھی ہوئی سوانح عمری ہیں۔ مسیحی خود مانتے ہیں کہ موجودہ اناجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1899 میں شائع ہونے والی ’ریڈ لیٹر بائبل‘ (Red Letter Bible) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ادا ہونے والے اصل الفاظ کو سرخ روشنائی سے لکھا گیا ہے تاکہ اصل تعلیمات کو ظاہر کیا جا سکے۔

اس کے برعکس جہاں تک قرآن کریم کی بات ہے، تو اس کے الفاظ ہو بہو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیے۔ اسے وحی کے فوراً بعد من و عن محفوظ کر لیا گیا، چاہے یاد کر کے یا پھر کسی بھی چیز پر لکھ کر۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ‘قُل’ (کہہ دیجیے) کے لفظ کا استعمال بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ڈائریکٹ سپیچ (Direct Speech) کو اِن ڈائریکٹ سپیچ (Indirect Speech) میں نہیں بدلا گیا۔

متکلم اور مخاطب کے حوالے سے چاروں کتابوں میں فرق ضرور محسوس ہوتا ہے، لیکن اس سے ان کی بنیادی تعلیمات نہیں بدلتیں۔ چونکہ سابقہ کتابیں انسانوں نے اپنے الفاظ میں مرتب کیں، اس لیے ان میں متکلم اور مخاطب کا فرق زیادہ لگتا ہے۔ مثال کے طور پر زبور میں متکلم اور مخاطب الٹ لگتے ہیں، جہاں لکھا ملتا ہے:

"مجھے فہم عطا کر” (زبور 119:34)
"مجھے صحیح اِمتیاز اور دانش سکِھا” (زبور 119:66)
"اَے خُداوند! اپنی راہیں مجھے دِکھا اپنے راستے مجھے بتادے۔” (زبور 25:4)
"مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔ کیونکہ تُو میرا نجات دینے والا خُدا ہے۔ مَیں دِن بھر تیرا ہی منتظر رہتا ہوں۔” (زبور 25:5)

جبکہ قرآن چونکہ براہ راست کلامِ الٰہی ہے، اس لیے اس میں متکلم اللہ تعالیٰ اور مخاطب انسان ہیں۔ اس میں ہو بہو اللہ تعالیٰ کے الفاظ آئے ہیں، اوپر دی گئیں زبور کی آیات قرآن میں ایسے آئی ہے:

"قل رب زدنی علما” (کہہ دیجیے اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما) (سورہ طہ، آیت 114)

سابقہ کتابیں مخصوص اقوام اور مخصوص ادوار کے لیے تھیں۔ تورات قانون (شریعت) پر زور دیتی ہے، زبور روحانیت پر، اور انجیل یہودیت کی ظاہر پرستی کو توڑنے کے لیے اخلاقیات پر زور دیتی ہے۔ جبکہ قرآن ان تمام پہلوؤں کا ایک آفاقی اور جامع مجموعہ ہے۔

اسلوب اور صنف کے فرق کے باوجود چاروں کتابوں کے ماخذ کے ایک ہونے کی بے شمار مماثلتیں آج بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہے:

"اور ہم نے لکھ دیا تھا زبور میں نصیحت کے بعد کہ اس زمین کے وارث ہوں گے ہمارے نیک بندے” (سورہ الانبیاء، آیت 105)
بالکل یہی بات آج بھی زبور میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے:
"صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔” (زبور باب 37، آیت 29)

چاروں کتابوں میں الہامی تعلیمات موجود ہیں۔ جہاں بہت سی مماثلتیں ہیں، وہیں اختلاف بھی ہیں (ان پر الگ تحریر لکھوں گا)۔ پچھلی کتابوں میں بہت سی باتیں چاہے تاریخی طور پر غلط بھی درج ہوئیں، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی تصحیح کر دی۔ اس لیے میرے خیال میں تورات، زبور، اناجیل اور قرآن زبان، صنف، اسلوب، تنظیم، ڈکشن، متکلم، مخاطب اور ابلاغ کی سمت تک میں ایک دوسرے سے بے حد مختلف دکھائی دینے کے باوجود ان میں الہامی تعلیمات موجود ہیں۔

(اس تحریر سے متعلقہ بہت سے موضوعات پر الگ الگ لکھنے کی ضرورت ہے، وہ ان شاءاللہ بعد میں)

یہ تحریریں بھی اپ کو پسند آئیں گی

Comments are closed.